حوصله نيوز
بھریٹھی معاملہ کی عدالتی جانچ ہو: علماء کونسل


بھریٹھی (پریس ریلیز/حوصلہ نیوز): بھریٹی گاؤں میں گزشتہ دنوں ہوئے معمولی تنازعہ کو جس طرح سے فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا اور یک طرفہ کاروائی کی گئی۔ اس پورے معاملے پر علماء کونسل کے قومی ترجمان ایڈوکیٹ طلحہ رشادی نے عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ 
راشٹریہ علماء کونسل کے قومی ترجمان ایڈوکیٹ طلحہ رشادی نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ بھریٹی گاؤں میں آم توڑنے اور بکری چرانے جیسے معمولی تنازعہ کو جس طرح فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ بچوں کے معاملہ کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ رنگ دینا فرقہ پرست طاقتوں کی ایک سازش ہے جس کے تحت ماحول خراب کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے بغیر تحقیق کے  یک طرفہ کاروائی کرتے ہوئے تقریبا 50 سے زائد مسلمانوں کو گرفتار کیا ہے جو کہ سراسر ظلم ہے، ہم اس پورے معاملہ کی ہائی کورٹ کے جج کی نگرانی  میں منصفانہ جانچ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 
طلحہ رشادی نے مزید کہا کہ مسلم طبقہ کا کہنا ہے کہ ہمارے لوگ مار بھی کھائے اور جیل بھی گئےجب کہ دلت بستی میں آگ مسلمانوں نے نہیں لگائی تھی بلکہ ادھر کے لوگوں نے ہی لگائی تھی جس کی ویڈیو بھی منظر عام پر آچکی ہے۔ مین ملزم کے طور پر نورعالم کا نام آتا ہے جو کہ ملک سے باہر ہے۔ ان سارے نقات کو اگر سامنے رکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ پورا معاملہ فرقہ پرستوں کی منصوبہ بند سازش ہے ورنہ بغیر جانچ کے اتنی جلد یک طرفہ کاروائی انتظامیہ نہ کرتی۔ 
علماء کونسل نے یہ مانگ کی ہے کہ وائرل ویڈیو کی بنا پر پورے معاملے کی ہائی کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں جانچ کرائی جائے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو۔ 


|| پہلا صفحہ || تعليم || سياست || جرائم؍حادثات || حق و انصاف || گائوں سماج || اچھي خبر || پرديس || ديني باتيں || کھيل || ادب || ديگر خبريں ||


HAUSLA.NET - 2021 ©