حوصله نيوز
 منور وادیوں کا پھول(قسط 1) 


صباح الدین اعظمی
( ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی رحمتہ اللہ علیہ کی روشن شخصیت پر ایک تاثراتی تحریر)
 دین حق کی تلاش:
یہ گذشتہ صدی کی پانچویں دہائی کا بلریاگنج ہے۔اعظم گڑھ کا ایک چھوٹا سا خوابیدہ قریہ۔ چند ہزار نفوس کی آبادی۔ فرقہ پرستی اور طبقاتی کشمکش سے دور ۔ سادہ سا دیہی ماحول۔ چند مساجد، ایک یا دو مندر، ایک دھرم شالہ، ایک مڈل اسکول اور ایک دینی مکتب۔ یوں تو اس گاوں میں سالوں سے کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی ہے لیکن ادھر کچھ عرصے سےایک نئی بات یہ ہوئی ہے کہ یہاں تحریک اسلامی کے پودے نے جڑ پکڑ لی ہے اور  جناب حکیم محمد ایوب صاحب رح کی قیادت میں تحریک اسلامی کے شجر کی آبیاری ہورہی ہے۔ 
ایک خوشحال ہندو گھرانے کاکمسن نوجوان۔نام بانکے لال۔عمر پندرہ،سولہ سال۔ پانچ بہنوں کااکلوتا بھائی۔بڑے لاڈ و پیار سے پرورش ہوتی ہے۔والد کلکتہ میں کاروبار کرتے ہیں۔مالی استحکام کی وجہ سے برادری میں چودھری کہے جاتے ہیں۔ گھر میں آسودگی ہے۔بانکے لال گاؤں کے مڈل اسکول سے پڑھائی مکمل کرکے شہر اعظم گڑھ کے مشہور شبلی انٹر کالج میں داخلہ لیتے ہیں اور شہر ہی میں قیام کرتے ہیں۔حالانکہ گاؤں کے اکثر ہم عمر لڑکے کئی کلومیٹر پیدل چل کر کے مالتاڑی اسکول میں پڑھنے جاتے ہیں۔آسودہ حال باپ کو گوارہ نہیں کہ لاڈلا بیٹاپیدل اسکول جائے اس لئے بیٹے کو شہر پڑھنے کے لئے بھیج دیا ہے۔پندرہ سولہ سالہ نوجوان کو پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ اپنے آبائی مذہب کا مطالعہ ذہن میں سوالات کو جنم دیتا ہے۔سچائی کی جستجو ہوتی ہے۔اس جستجو کی تلاش کہاں پہنچاتی ہے خود ان کی زبانی سنتے ہیں:
” 1959 میں میری عمر کوئی پندرہ سولہ سال رہی ہوگی۔ایک عزیز دوست ماسٹر جنید صاحب نے کہا کہ تم گرمی کی چھٹیوں میں بلریاگنج آئے ہو ( میں اس وقت شبلی کالج اعظم گڑھ میں زیر تعلیم تھا) چلو حکیم محمد ایوب صاحب سے ملاقات کرتے ہیں۔جنید صاحب کےاصرار نے مجھےان کے مطب پہنچادیا۔جنید صاحب نے میرا تعارف کرایا اور عرض کیا کہ ان کو ہندی میں اسلام سے متعلق کوئی کتاب پڑھنے کے لئے دیں۔۔۔۔ محترم حکیم صاحب نے ایک چھوٹی سی کتاب ستیہ دھرم ( مولانا مودودی علیہ الرحمتہ کی مشہور کتاب ”دین حق“ کا ہندی ترجمہ) کیا دی کہ آسمان اور زمین کے خزانے بھی ہیچ لگنے لگے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے جس شخص کو اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔“ ( مقدمہ ۔ تذکرہ حکیم محمد ایوب)
بلاشبہ حق کی تلاش نے اس کم سن نوجوان کے سینے کو ہدایت کے لئے کھول دیا۔ ذرا وقت لگا۔ کچھ مدت تک جستجو کا سلسلہ جاری رہا۔ کالج کےکئی اساتذہ سےرجوع کیا۔ اپنے آبائی مذہب سے اسلام کی حقانیت کا تقابلی جائزہ لیا۔ بلآخر حق کی جیت ہوئی اور کم سن نوجوان نے اسلام کی حقانیت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد اس کا نام رکھا گیا ”امام الدین“۔ 
بانکے لال سے امام الدین کا سفر ایک جستجو کا سفر ہے ۔ایک ایسے نوجوان کی داستان ہے جسے حق کی تلاش ہے۔ جس کے ذہن میں بہت سارے سوالات ابھرتے ہیں۔اسے اپنے سوالات کے جوابات چاہئے۔ اس تلاش میں کچھ روشنی کے مینار آتے ہیں جو اس نوجوان کو راستہ دکھاتے ہیں۔ اس روشنی میں نوجوان نے حق کا راستہ تلاش کیا ہے۔ ہدایت کی راہ اس کے جستجو کا حاصل ہے۔
حق کے اعلان اور روایات سے بغاوت کے بعد کسی کو پھولوں کی سیج نہیں ملتی۔ سچ کا راستہ اپنا کرآگ کے دریاسے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ تپتی ریگزاروں کا سفر ہے۔ نوجوان امام الدین کو بھی ان مراحل سے گزرنا پڑا۔اہل خانہ نے جلد ہی تبدیلی محسوس کر لی۔ گھر کے حالات سازگار نہ رہے۔ماں نے پیار کی دہائی دی۔ باپ کو اکلوتے بیٹے کے ہاتھ سے نکل جانے کاغم ستانے لگا۔ بہنوں نے جذباتی دباو ڈالا۔ کھانا پینا چھوڑ دیا کہ ہماری زندگی چاہتے ہو تو واپس آجاؤ۔ جب جذباتی حربے کارگر نہ ہوئے تو سختیاں شروع ہوگئیں۔ایذا رسانیاں بھی ہوئیں، زبانی طعنے بھی سہنے پڑے۔ جب کوئی کامیابی نہ ملی تو تھک ہار کر آریہ سماج کے لوگوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ تاکہ ان کی شدھی ہوسکے۔ اللہ کی قدرت کہ امام الدین ان کے چنگل سے بچ نکلے ۔لوٹ کر بلریاگنج واپس نہیں آئے کہیں نامعلوم مقام پر روپوش ہو گئے۔اہل خانہ کی مجبوری تھی کہ اب کس سے گلہ کریں اور کس پر غصہ کریں۔ تھک ہار کر بیٹھ گئے۔لیکن تلاش بھی جاری رہی۔ 
اب اس داستان کا اگلا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ امام الدین آریہ سماج والوں کے چنگل سے بچ کر نکلے تو ان کے خیر خواہوں نے مقامی حالات کو دیکھتے ہوئے انھیں اعظم گڑھ سے دور کسی ایسی جگہ بھیجنے کا فیصلہ کیا جہاں وہ اہل خانہ اور آریہ سماج والوں کی پہنچ سے باہر ہوں۔ نہایت رازداری سے انھیں تحریک اسلامی کی مشہور درسگاہ اسلامی رامپوربھیج دیا گیا۔ لیکن جلد ہی اہل شر نے اس جگہ کا سراغ لگا لیا۔ مجبورا وہاں سے نکلنا پڑا۔ ضلع بدایوں کا چھوٹاسا قصبہ ککرالہ ان کا اگلا ٹھکانا تھا۔ جہاں کی درسگاہ اسلامی ان کا مسکن بنی۔لیکن یہ پناہ گاہ بھی جلد چھوڑنی پڑی ۔بالآخرجنوبی ہند کی مشہور درسگاہ جامعہ دارالسلام عمر آباد کا ٹھکانہ تلاش کیا۔یہاں یہ اطمئنان تھاکہ اہل خانہ اور آریہ سماج والوں کے لئے اتنی دور پہنچنا آسان نہ ہو گا۔ جامعہ دارلسلام عمر آباد میں ان کا نام رکھا گیا ضیاء الرحمن۔چونکہ اعظم گڑھ سے تعلق تھا اس لئے نسبت بھی نام میں شامل ہو گئی۔ ضیاء الرحمن اعظمی۔ امام الدین سے ضیاء الرحمن کا سفر آزمائش اور ابتلاء کا سفر ہے۔ جہاں اپنوں سے بچھڑنے کا دکھ بھی ہے اورحق پر ڈٹے رہنے کا عزم بھی۔ یہ عزیمت کی داستان ہے۔ایک کانٹوں بھرا سفر لیکن مسافر کو یقین ہے کہ یہی سیدھا راستہ ہے اور اسی پر چل کر کامیابی ملنے والی ہے۔
دارلسلام عمر آباد پہنچ کر ضیاء الرحمن صاحب کی زندگی میں ایک ٹھہراو آگیا۔ سکون ہواتو اطمئنان سے پڑھنے لکھنے کا موقعہ ملا۔
وہاں کے مشفق اساتذہ اور ذمہ داران نے بھر پور تعاون کیا اور کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ 
ادھر وطن میں اہل خانہ مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔ شریر عناصر بھی رفتہ رفتہ خاموش ہوگئے۔ ماں کا صدمے سے برا حال۔ غصہ کی جگہ غم نےلے لی۔ دارلسلام میں پانچ سال گزارنے کے بعد ضیاء الرحمن صاحب کے دل میں وطن کی یاد ستانے لگی۔ ماں کی محبت نے جوش مارا اور انھوں نے وطن آنے کا ارادہ کیا۔ 
وطن واپسی کی داستان دلچسپ اور جذبات سے پر ہے۔ضیاء الرحمن صاحب اعظم گڑھ شہر پہنچے تو رات کا وقت تھا۔بلریاگنج، اعظم گڑھ شہر سے پندرہ کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ رات میں شہر سے گاؤں جانے کے لئے کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ گمان ہے کہ پروگرام بناتے وقت یہ طے کیا ہوگا کہ رات میں ریلوے اسٹیشن سے دار المصنفین چلے جائیں گے اور پھر وہاں سے صبح ہونے کے بعد بلریا گنج کا سفر کریں گے۔ مولانا ابولبقاء ندوی صاحب (جماعت اسلامی کے قدیم رکن اور جامعتہ الفلاح کے سابق ناظم) اس وقت دار المصنفین سے منسلک تھے اور وہیں ان کا قیام بھی تھا۔ندوی صاحب فجر کی نماز کے لئے باہر نکلے۔ دروازے پرکڑکڑاتی سردی میں شیروانی پہنے ہاتھ میں اٹیچی لئے ایک اجنبی نوجوان کو کھڑے پایا۔ ندوی صاحب نےسلام کیا اور پوچھا آپ کون؟ میں ضیاء الرحمن! نوجوان نے جواب دیا۔میں نے آپ کو پہچانا نہیں ندوی صاحب بولے۔ نوجوان نے مسکرا کر کہا۔ امام الدین! پہچانا نہیں۔ مولانا ابو البقاء صاحب ضیاء الرحمن صاحب کو پہلے سے جانتے تھے۔ لیکن اس وقت وہ امام الدین تھے اب ضیاء الرحمن۔دوسرے ابو البقاء صاحب کو ان کی آمد کی اطلاع بھی نہیں تھی۔ پھر گزرے پانچ چھ سالوں میں وقت نے ضیاء الرحمن صاحب کی شخصیت پر اثر ڈالا تھا۔ حلیہ کچھ اس قدر تبدیل ہو چکا تھا کہ ابوالبقاء صاحب پہلی نظر میں پہچان نہ سکے۔ 
دن طلوع ہوا تو ضیاء الرحمن صاحب نے بلریاگنج جانے کا ارادہ کیا۔ لیکن اکیلے جانے سے کچھ ہچکچا رہے تھے کہ کیسے جائیں گے۔ مولانا ابو البقاء صاحب نے کہا میں ساتھ چلتا ہوں۔دونوں حضرات یکہ سے روانہ ہوئے۔ ادھر بلریاگنج سے حکیم محمد ایوب صاحب رح نے اپنے معتمد خاص جناب منشی محمد انور صاحب کو ضیاء الرحمن صاحب کو لینے شہر اعظم گڑھ بھیجا وہ بھی یکہ سے اعظم گڑھ آرہے تھے۔ راستے میں دونوں یکوں کا سامنا ہوا۔ مولانا ابو البقاء صاحب نے ڈاکٹر ضیاء الرحمن صاحب کو منشی محمد انور صاحب کےحوالے کیا۔ اور خود بلریاگنج سے آنے والے یکے پر بیٹھ کر اعظم گڑھ واپس چلےگئے۔ منشی محمد انور صاحب اورضیاء الرحمن صاحب نےبلریاگنج جانے والے یکے پر بیٹھ کر گھر کی راہ لی۔
سہ پہرکے وقت یہ دونوں حضرات بلریاگنج پہنچے۔ حکیم صاحب کا مکان سڑک کے کنارے ہی پڑتا ہے ان کے گھر سے پہلے والی گلی میں خود ضیاء الرحمن صاحب کا گھرتھا۔ضیاء الرحمن صاحب سیدھےحکیم صاحب کے گھر پہنچے، اپنے گھر نہیں رکے۔ ان کی آمد کی خبر سے زیادہ لوگ واقف نہیں تھے۔ رات ہوئی تو حکیم صاحب نے ان کے والد کو خاموشی سے پیغام پہنچایا کہ آپ کے بیٹے آگئے ہیں۔ رات زیادہ ہو چکی تھی اس لئے طے ہوا کہ صبح ملاقات ہو گی۔ یہ احتیاط اس لئے کی گئی تھی کی کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اہل خانہ کا رد عمل کیا ہوگا۔ صبح ہوتے ہی پورے گاؤں میں یہ خبر پھیل گئی کہ امام الدین آئے ہیں۔ ایک مجمع اکھٹا ہو گیا ۔ضیاء الرحمن صاحب کے والدین اور دیگر اہل خانہ بھی حکیم صاحب کی اس بیٹھک میں جمع ہو ئے جہاں ضیاء الرحمن صاحب ٹھہرے ہوئے تھے۔ یہ حکیم صاحب کی تاریخی بیٹھک تھی جہاں تحریک اسلامی کے قائدین بھی آکر ٹھہرتے تھے اور جہاں سے تحریک کا دعوتی کام بھی ہوتا تھا۔ اسی بیٹھک میں چند سال قبل ضیاء الرحمن صاحب نے بلریاگنج میں پہلی مرتبہ باجماعت نمازاداکی تھی۔ یہ عشاء کی نماز تھی جس کی امامت جناب ابو البقاء ندوی صاحب نے کی تھی اور مصلین میں ضیاء الرحمن صاحب کے ساتھ حکیم ایوب صاحب، حاجی امانت صاحب اور ماسٹر جنید صاحب ( اللہ ان کے درجات بلند کرے) تھے۔ ابھی نماز مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ ضیاءالرحمن صاحب کے اہل خانہ اور دیگر شرپسند عناصر ان کو ڈھونڈتے ہوئے پہنچ گئے تھے اور زور زور سے پکارنے لگے تھےبانکے، بانکے۔ ان کو معلوم ہو گیاتھا کہ وہ گھر سے نکل کر ادھر آئے ہیں۔ کافی ہنگامہ برپا ہو گیا تھا۔ اس واقعےکے بعد ان کی ابتلاء اورآزمائش میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ اللہ کی شان کی وہی بیٹھک تھی اور وہی لوگ۔ منظر نامہ بدل چکا تھا۔ سالوں سے ضیاء الرحمن صاحب کی ماں کا حکیم صاحب سے شکوہ تھا کہ تم نے میرے بیٹے کو مجھ سے جدا کردیا ہے۔ حکیم صاحب نے ان کی ماں سے کہا” اپنے بیٹے کو لیجئے“ ۔ماں نے ایک نظر بیٹے پر ڈالی۔ چھ سالوں میں چہرے پر کافی تبدیلی آچکی تھی۔ یاتو پہچان نہ سکیں یا جذبات غالب تھے بولیں”حکیم جی یہ ہمرے لعل ناہیں“۔ حکیم صاحب نے کہا ٹھیک سے دیکھیں یہی آپ کے لعل ہیں۔ والد کچھ نہیں بولے صرف کھڑے روتے رہے۔آنسو تھے کہ تھم نہیں رہے تھے۔ پتہ نہیں ندامت کے آنسو تھے یا خوشی کے یا شاید دونوں کے۔ ماں نے بیٹے کے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ ضیاء الرحمن صاحب کے کان میں سوراخ تھا جو اس زمانے کاعام ہندو رواج تھا۔ اس پر ہاتھ پڑا۔ کسی زخم کابھی نشان تھا۔ اسے دیکھا۔ زور سے چیخیں ”ہمرےلعل“ برسوں کے گلے شکوے آنسووں میں بہہ گئے۔ پانچ سال بعد ماں بیٹے کا ملن پورا مجمع دیکھ رہا تھا۔ماں باپ اوربیٹے سب رو رہے تھے۔ اور ساتھ ہی پورا مجمع بھی۔ چشم فلک نے ایسے مناظر کم ہی دیکھے ہوں گے۔
اب نہ کوئی شکایت تھی اور نہ غصہ۔ اہل خانہ نے حقیقت تسلیم کر لی تھی۔ضیاء الرحمن صاحب بھی پر سکون ہوگئے۔ جلد ہی رمضان کے روزے شروع ہو گئے۔ اہل محلہ نے کہا کہ تراویح کی نماز آپ پڑھائیں۔ ضیاء الرحمن صاحب نے محلے کی مسجد میں پورے رمضان تراویح کی نماز پڑھائی۔ ان کا پورا گھر مسجد کے باہر بیٹھ کر سنتا تھا۔عید قریب آئی تو گاؤں والوں نے اعلان کیا کہ اس مرتبہ عید کی نماز ضیاء الرحمن صاحب پڑھائیں گے۔اس پورے واقعے کو خود ان کی زبانی سنتے ہیں۔
” لگ بھگ پانچ سال گزارنے کے بعد میں نے کچھ عرصے اپنے آبائی قصبے میں جانے کا فیصلہ کیا۔وہاں میں نے اپنے اسی محسن کے یہاں قیام کیا جنھوں نے مجھے سب سے پہلے سید مودودی کی ایک چھوٹی سی کتاب دین حق کے ذریعہ اسلام سے روشناس کرایا تھا۔لوگوں کو جب میرے آنے کی خبر ملی تو جوق در جوق مجھ سے ملنے کے لئے ٹوٹ پڑے۔حیران کن بات یہ تھی کہ ان میں ہندو بھی تھے۔اس کی وجہ مجھے بعد میں معلوم ہوئی۔ وہ یہ کہ انھوں نے جب دیکھا کہ اس قدرمصائب اور شدائد کے باوجودمیں نے اسلام پر استقامت دکھائی ہے اور مجھے کوئی لالچ اور خوف راہ حق سے منحرف نہیں کر سکا۔تو ان کی نفرت عقیدت میں بدل گئی۔اس دوران عید الفطر آگئی۔ مسلمانوں نے اعلان کر دیا کہ عید کی نماز بھی میں ہی پڑھاؤں گا اور خطبہ بھی میں ہی دوں گا۔اس اعلان کے نتیجے میں نہ صرف قرب و جوار کے ہزاروں مسلمان عیدگاہ میں جمع ہو گئے بلکہ عید گاہ کے باہر ہزاروں ہندو بھی میری تقریر سننے کے لئے پہنچ گئے۔وہ اس بات پر حیران تھے کہ مسلمانوں نے ایک ایسے شخص کو جو چند برس پہلےہندو تھااپنی مذہبی پیشوائی اور امامت کے منصب پر کس طرح فائز کر لیا۔وہ اسلام کے اس پہلو اور میری تقریر سے حد درجہ متاثر ہوئے“۔( اردو ڈائجسٹ1978)
والدین سے ملاقات اور عیدکا خطبہ اس داستان کا نکتہ عروج ہے۔اس خطبے کے بعد ضیاء الرحمن صاحب پورے بلریاگنج کے فرزند تھے۔ اور پورے علاقے کے چہیتے۔ چند سال پہلے اٹھنے والے نفرت اور غصے کے بادل محبت اور الفت کے جذبات میں ڈھل گئے تھے۔ ان کے قبول اسلام اور اس کے بعد کے حالات کو جس دانشمندی اور حکمت سے بلریاگنج کی مسلمان آبادی نے حل کیا وہ اس آیت قرانی کی عملی مثال ہے؛
وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ } 
رمضان کی تعطیل کے بعد ضیاء الرحمن صاحب عمر آباد واپس چلے گئے اور اپنی تعلیم مکمل کرنے کےبعد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ لیا-وہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جامعتہ الملک عبدالعزیز مکہ مکرمہ سے ایم اے (ماجستر)کیا۔اس کے بعد وہ رابطہ عالم اسلامی سے منسلک ہو گئے۔ رابطہ میں رہتے ہوئے انھوں نےاپنی تعلیم جاری رکھی اور جامعہ ازھر مصر سے اعزاز کے ساتھ پی ایچ ڈی ( دکتوراہ)کی ڈگری حاصل کی۔ 
بلریاگنج کے میڈل اسکول میں ہندی میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والا لڑکا دنیا کی قدیم ترین اور موقر ترین درسگاہ سے دینی علوم کی اعلی ترین ڈگری عربی زبان میں تحقیقی مقالہ لکھ کر حاصل کرتا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں ایسی دوسری مثال شاید ہی مل سکے۔
ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ 
پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے کچھ ہی عرصے کے بعد ضیاء الرحمن صاحب نے جو اب دکتور یعنی ڈاکٹر ہو چکے تھے رابطہ عالم اسلامی چھوڑ کر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں لیکچرار کی جاب قبول کرلی۔ یہاں مراعات کم تھیں لیکن علمی ماحول تھا۔ جس کی انھیں تلاش تھی۔اس سے قبل ان کو سعودی عرب کی شہریت بھی مل گئی۔ سعودی عرب میں بعض تکنیکی وجوہات سے ان کے نام میں پھر تبدیلی کرنی پڑی اور وہاں کے دستاویزات میں ان کا نام آیا۔ محمد عبداللہ ۔ بعد میں اپنے بڑے فرزند کی نسبت سے کنیت اختیار کی ابو احمد ۔ ان کی تصانیف پر ان کانام کچھ اس طرح آتا ہے۔ ”ابو احمد محمد عبداللہ الاعظمی المعروف بضیاء الرحمن الاعظمی“
ضیاء الرحمن سے محمد عبد اللہ کا سفر ترقی کی منزلوں کا سفر ہے۔ یہ اللہ سبحانہ تعالی کی طرف سے اپنے ایک برگزیدہ بندے کے لئے دین حق کی تلاش میں اٹھائی گئی مشقتوں اور آزمائشوں کے انعام کا مرحلہ ہے۔
جامعہ اسلامیہ میں ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے وہ صدر شعبہ اور ڈین کلیتہ الحدیث کے عہدے تک پہنچے اور اسی عہدے سے دو ہزار پانچ میں ریٹائر ہوئے۔ ریٹائر ہونے کے بعد انھوں نے ایک پروجیکٹ پر کام کرنا شروع کیا جس کا خواب عرصے سے دیکھ رہے تھے۔ وہ تھا تمام صحیح مرفوع احادیث کو ایک جگہ اکھٹا کرنا۔ بارہ سال کی شب روز ریاضت کے بعد  ان کی یہ کاوش الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل کے نام سے اٹھارہ جلدوں میں شائع ہوئی۔ جس میں سولہ ہزار پانچ سو چھیالیس (16546) مستند احادیث  شامل ہیں ۔اس کے علاوہ ان کی درجنوں دیگر تصانیف میں ہندی زبان میں قرآن کریم کا انسائیکلوپیڈیا بھی شامل ہے۔ ہندی ہی میں لکھی گئی ان کی کتاب ’’قرآن کی شیتل چھایا‘‘ (قرآن کی ٹھنڈی چھائوں) بہت مقبول ہوئی جس کے متعدد ایڈیشن اور تراجم شائع ہو چکے ہیں۔ حدیث نبوی سے محبت ان کے رگ و پے میں رچی بسی تھی۔ ہفتے میں دو روزمسجد نبوی میں بعد نماز عشاء درس حدیث دیتے تھے جس کا سلسلہ آخر تک چلتا رہا۔ تیس جولائی دوہزار بیس کو عرفہ کے دن عین اس وقت جب کہ موذن نے ظہر کی اذان کی صدا بلند کی حدیث نبوی ﷺ کے اس شیدائی نے جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔ مسجد نبوی میں جس کے سایے میں برسوں سے تشنگان علم کو احادیث نبویہ کا درس دیتے تھے ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اورسیکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں جنت البقیع میں سپرد خاک کردیا گیا۔


|| پہلا صفحہ || تعليم || سياست || جرائم؍حادثات || حق و انصاف || گائوں سماج || اچھي خبر || پرديس || ديني باتيں || کھيل || ادب || ديگر خبريں ||


HAUSLA.NET - 2021 ©