حوصله نيوز
دارالمصنفین شبلی اکیڈمی :ایک صدی کا قصہ کے عنوان سے بین الاقوامی آن لائن سیمینار کا انعقاد


نئی دہلی(پریس ریلیز): عالمی شہرت یافتہ دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کی خدمات پر اتوار کو ایک آن لائن بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک و بیرون ملک کے دانشور وں نے حصہ لیا۔ مولانا آزاد یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اختر الواسع نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ علامہ شبلی عارف بھی تھے اور دائرة المعارف بھی ۔المامون کے لکھنے والے نے بیت الحکمت کی طرز پر دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کو قائم کیا جس نے علمی ہمہ جہتی کو اردو میں درجہ کمال کو پہنچا دیا ۔انہوں نے کہا کہ آج کے سیمینار میں مصراور ایران کے دانشوروں کی شمولیت ان پر چلی آرہی شبلی کی علمی قرض کی ادائیگی کی صورت میں بھی دیکھنا چاہیی ۔ کیونکہ انھو ںنے اسکندریہ کے کتب خانے کے جلائے جانے پر جو مسکت ،مبسوط اور مدلل جواب دیا آج تک مستشرقین اس کا جواب نہیں دے سکے ۔
 شبلی اکیڈمی کی مجلس انتظامیہ کے رکن پروفیسر خالد محمود نے کہاکہ شبلی اکیڈمی کی ایک صدی کی خدمات قابل فخر ہے اور آج ضرورت ہے کہ اکیڈمی کو مضبوط و مستحکم کیا جائے تاکہ اس کی خدمات کا سلسلہ جاری رہے ۔پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ اور تہذیب کے فروغ و استحکام کا کوئی ذکر شبلی اکیڈمی کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا ۔یہ ہمارے لیے فخر اور سعادت کی بات ہوگی کہ ایک ایسے تاریخ ساز ادارے کو ہم قائم و دائم رکھیں ۔مجلس صدارت کے فاضل رکن مولانا محمد طاہر مدنی نے کہا کہ نئی نسل کو اکیڈمی کے لٹریچر سے متعارف کرانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا دیگر زبانوں خصوصاً ہندی میں ترجمہ کیا جائے ۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ آج کل کے حالات کے لحاظ سے ہماری کیا ضروریات اور ترجیحات ہیں اس پر بھی کام ہونا چاہیے ۔اس موقع پر انھوں نے اکیڈمی کی مالی حالت کو مستحکم کرنے کے لیے بعض عملی منصوبہ بھی پیش کیا ۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر انوار غنی نے کہاکہ اکیڈمی کی مہتم بالشان تاریخ کو قائم و دائم رکھنے کے لیے اسے معاشی طور پر مستحکم کرنا ہماری اولین ترجیح میں شامل ہونا چاہیے۔مہمان اعزازی جناب شکیل احمد صبرحدی نی کہا کہ ایک وسیع انسانی اخوت و ہمدردی کے جذبے سے سرشار ہوکر اس نوع کے کام کرنے کی ضرورت ہے ،جس میں کسی طرح کی تفریق کا گذر نہ ہو ۔
عالمی شہرت یافتہ جامعہ ازہر مصر کے شعبہ اردو کے صدر پروفیسر احمد القاضی نے عرب دنیا میں علامہ شبلی کی اہمیت اور ان کی مقبولیت کے ساتھ وہاں کی علمی دنےا سے شبلی کے روابط کا بطور خاص ذکر کیا ۔اس موقع سے انھوں نے کہا کہ جرجی زیدان کے خیالات کاعلامہ نے جس طرح جواب دیا تھا وہ علمی دنیا کا ناقابل فراموش واقعہ ہے ۔
یونیورسٹی آف تہران کے شعبہ اردو میں استاذ ڈ اکٹر وفا یزداں منش نے ایران میں شبلی شناسی کا ذکرکر تے ہوئے فارسی ادبیات میں ان کی خدمات کا احاطہ کیا ۔اس موقع پر انھوں نے شبلی کی فارسی شاعری کا بطور خاص تعارف کرایا اور کہاکہ علامہ کی فارسی شاعری نہ صرف زبان وبیان کا اعلی نمونہ ہے بلکہ مضامین اور خیال کے اعتبار سے بھی جدید فارسی شاعری کے وہ بنیاد گذار کہے جاسکتے ہیں ۔
ڈاکٹر اشہد جمال ندوی نے کہا کہ شبلی کی ایک بڑی آرزو خطہ اعظم گڑھ میں تعلیمی انقلاب برپا کرنے کی تھی وہ اسے علم و ادب کا گہوار ہ بنانا چاہتے تھے ۔انھوں نے کہا کہ شبلی کی زندگی کاایک تابناک باب اشاعت اسلام اور حفاظت اسلام کے لیے ان کی تڑپ ہے ۔انھوں نے کہا کہ افرادی قوت،بے لوث قربانی اور ایک نئی تحریک کے ذریعے ہم شبلی کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں ۔
اس سیمینار کو حکیم وسیم احمد اعظمی، پروفیسر سراج اجملی، پروفیسر احمد محفوظ ،ڈ اکٹر سلمان فیصل، ڈاکٹر محمد اکرم السلام اور ڈ اکٹر جمشید احمد ندوی وغیرہ نے بھی خطاب کیا ۔سیمینار کا انعقاد اصلاحی ہیلتھ کیئر فاو ¿نڈیشن کے زیر اہتمام ہوا۔ ا پروگرام کاآغاز ڈاکٹر شاہ نواز فیاص کے تلاوت قران سے ہوا ۔نظامت کا فریضہ ڈاکٹر عمیر منظر نے انجام دیا ۔تکنیکی امور کی دیکھ بھال راحیل مرزانے کی ۔حکیم نازش احتشام اعظمی نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا ۔


|| پہلا صفحہ || تعليم || سياست || جرائم؍حادثات || حق و انصاف || گائوں سماج || اچھي خبر || پرديس || ديني باتيں || کھيل || ادب || ديگر خبريں ||


HAUSLA.NET - 2021 ©